Monday, 20 January 2014

قیامت کی نشانیاں – MUSTAA’R


پیشِ نظر مضمون میں قطب الاقطاب، امام الوقت اور خدا کے پراسرار بندوں کے سالار مولانا شیخ الحاج سیدنا الاحمد الشجاع الباشا المخفی والغیبی کو خواب میں ودیعت ہونے والی چند بشارتوں کی تفصیل جمع کی گئی ہے۔ یہ بشارتیں مختلف ائمہ و مشائخ کی روایات کی زبانی امت مسلمہ تک پہنچی ہیں اور ان کے پڑھنے سے سالارِ سپاہِ خفی کے بے ا نتہا علوم کا اندازہ ہو گا اور معلوم ہو گا کہ آپ نے جو قیامت کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں وہ حرف بہ حرف آج پوری ہو رہی ہیں۔


متنوع روایات میں آیا ہے کہ قربِ قیامت فتنے بارش کے قطروں کی طرح بڑھ جائیں گے۔ مغرب سے کالے عقاب نمودار ہوں گے جنہیں نہ کوئی دیکھ سکے گا نہ کوئی روک سکے گا۔ نیک لوگ دنیا سے اٹھا لیے جائیں گے۔ سمندر برد کر دیے جائیں گے۔ اس پر مومنین گھروں میں دریاں بچھا کر ماتم کریں گے ۔ مولانا شیخ ابو العرفان الصدیقی قدس سرہ نے اپنی کتاب ‘نوحہ جات اہل الغیرۃ’ میں کچھ اقتباسات نقل کیے ہیں کہ اس وقوعہ پر امت کی حالت اتنی ابتر ہو گی کہ لوگ ایک دوسرے سے بازاروں میں گلے لگ کر دھاڑیں مار کر روئیں گے اور کہیں گے کہ ‘کسی گھر کی بے حرمتی کے لیئے ایک ہی نیک مجاہد کی شہادت کافی ہوتی ہیں اور یہاں تو پوری امت ہی نیلام ہو گئی ۔۔ کیا ستم ہے کہ گھر بار ۔۔ عزت ۔۔ حیا ۔۔ خوداوری سب کی نیلامی ہو گئی ۔۔۔ ۔۔ہم بک گئے بھائی’۔ ان اقتباسات کے بعد کی عبارت آنسووں سے بھیگ جانے کی وجہ سے قابل مطالعہ نہیں رہی۔

مومن اولاد اپنی ماں جیسے اداروں کی نافرمان اور گستاخ ہوجائے گی ۔ خود کش حملے کرے گی۔


دنیا کی دو نمبر گندی مندی عورتیں مومنین کو غلافی آنکھوں والی حوروں سے غافل کر دیں گی۔ صرف چند مومنین اس دنیاوی فتنے اور دنیاوی شادی نکاح کے وبال سے بچ پائیں گے اور حوروں کی تمنا میں اپنے آس پاس موجود لوگوں کو یکلخت ایک جھٹکے سے جنت میں داخل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔


قصہ ایک فاحشہ کا


دیگر گندی مندی دو نمبر دنیاوی عورتیں مومنین پر عصمت دری کے نہایت فحش الزامات لگائیں گی جن سے جنوب اور مغرب کی طرف آگ کی آندھی اٹھے گی اور لپک کر صحراووں اور اونٹوں کے علاقے کو اپنی گرفت میں لے لے گی۔ نصاریٰ اس فاحشہ کو پناہ دیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کے سپہ سالار کی علامات روایتوں میں جا بجا ہیں۔ کہیں آیا ہے کہ اس کی پیشانی کشادہ اور خیالات روشن ہوں گے، کہیں آیا ہے کہ اس کی پیشانی پر واضح لکھا ہو گا ک، ل، ب۔ متضاد روایات میں ہے کہ وہ حیوانات، مثلا کتوں سے، ہمکلامی کے قابل ہو گا اور مزکورہ حیوانات اس کے آس پاس پائے جائیں گے۔ بالاخر ایک معمر دجال اٹھے گا اور فاحشہ کے الزامات کی آڑ میں ادارے کا مرتد ہو جائے گا۔ اعلانِ جنگ کرے گا لیکن بھیانک موت مارا جائے گا۔ آگ بدستور بڑھکتی رہے گی جب تک مومنین اپنی شمشمیریں نیام سے نکال کر سازشی عالموں اور نفرت پرور منافقین کا رات کے اندھیروں میں قتال نہیں کریں گے۔

حیا باختہ عورتیں بے مہار اونٹوں کی طرح بازاروں میں اپنے اونٹوں پر پھریں گی اور مومنین کے اونٹوں کا رستہ کاٹیں گی۔ کفار کے پروردہ علما جامعات پر قابض ہوں گے اور مومنین کے خلاف زبان درازی کثرت سے کریں گے۔


قصہ سیلاب کا

زمین میں ایک بہت بڑا سیلاب آئے گا جو سب کچھ بہا لے جائے گا سوائے ان لوگوں کے جو عساکر اسلام پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے، انہی کے لیے نجات اور خشکی ہے۔ ابوجھوٹا الاوریا المقبول انجان اپنی تصنیف ‘فضائل برکات حکومت العسکریہ’ میں لکھتے ہیں کہ سیلاب عظیم باری تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کے لیے امتحان ہو گا۔ مخلوق حشرات الارض کی طرح گندم کے دانے دانے کو ترسے گی اور موت کی دعائیں کرے گی۔ زمین کے چاروں کونوں میں موجود نصاریٰ کے ملکوں سے بے بہا غلہ اونٹوں پر لد کر آئے گا ۔ مسلمان اس کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے اور کھانے میں تامل کریں گے۔ بالاخرعساکر اسلام اس اناج پر درود شریف کا دم کریں گے اور اپنی مہرتصدیق ثبت کر کہ بازاروں میں فروخت کریں گے اور اشرفیوں سے مالامال ہوں گے جنہیں ادارے کی راہ میں خرچ کریں گے۔ ادارہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے سفید دانے سب سے سستے نرخ میں پیدا کرے گا جسے کاشت کے کاموں میں استعمال کیا جائے گا اور اس سے فصل میں بھرپور اضافہ ہو گا۔ ان معجزوں سے مومنین کے دل قوی ہوں گے اور منافقین کے دل حسد سے جل اٹھیں گے۔

قصہ خشک سالی کا

سیلابوں اور زلزلوں کے علاوہ خشک سالی بھی قرب قیامت کی ایک علامتِ کبریٰ ہے۔ مولانا شیخ ابو العرفان الصدیقی قدس سرہ نے اپنی تصنیف ‘کتاب الاحیا العلوم الکزب’ میں لکھا ہے کہ آسمان خشک ہو جائے گا اور بارش ناپید ہو گی۔ چار ولایتوں کی سرزمین میں ہر طرف لوگ اناج کے لیے قطار در قطار کھڑے ہوں گے مگر اناج نہ پائیں گے۔ ہر طرف بھوک اور افلاس ہو گی، نہریں سوکھ جائیں گی اور کھیت اجڑ جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو باوردی ہوئے اور نیک اعمال کیے۔ انہی کے لیے خوش حالی اور زرخیز زمینیں ہیں کہ یہ ان کے ادارے کی طرف سے انعام ہے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جن کے ایمان اور پھیپھڑے کمزور ہیں اور تیرنا نہیں جانتے۔


قصہ چند بد بخت قابضوں کا

آخری ایام میں ایک بد بخت اور باغی گروہ نمودار ہو گا اور زرخیز زمین کے ایک ٹکڑے پر قابض ہو جائے گا اور کاشت کاری شروع کر دے گا جس سے ہر طرح کی نا انصافی اور فتنے کا دروازہ کھل جائے گا۔ ابوجھوٹا الاوریا المقبول انجان فرماتے ہیں کہ اگر تم خود کو اس زمانے میں پاو تو صبر کرو اور مومنین کی زر، زن اور قلم سے اعانت کرو۔ مزید فرماتے ہیں کہ جلد ہی یہ باغی گروہ مومنین سے اس زمین کی ملکیت اور اس کی زرعی پیداوار پر جنگ کرے گا، اسے نصاریٰ اور یہود و ہنود کی حمایت حاصل ہو گی لیکن بالاخر فتح مومنین ہی کی ہو گی۔ قتال اور شمشیر زنی کے بعد باغی گروہ زرخیز زرعی علاقے سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ ابوجھوٹا الاوریا المقبول انجان فرماتے ہیں کہ اس باغی گروہ کا حکم عین اہل الخیبر والا ہے۔


دیگر علامات

اسلام کی تلوار اور عظیم سالار حضرت حمید ابن ابی گل رحمتہ اللہ کے مطابق دیگرعلاماتِ قیامت میں ہے کہ کچھ مومن غداری کے مرتکب ہوں گے اور کفار کی عدالتوں میں وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے جس سے ماں جیسے مقدس ادارے میں تھرتھلی مچ جائے گی۔ لوگ وعدہ کی پروا نہیں کریں گے۔ وعدے کے خلاف کفار مسلمانوں کے ماں جیسے مقدس ادارے کی سربازار توہین کریں گے۔ ہمسائے کے حقوق کی پرواہ نہیں کی جائے گے۔ حملے سے پہلے اطلاع نہیں دیں گے جو کہ شدید بے عزتی، بلکہ بیستی کا باعث ہوگا۔

متفق الیہ روایات سے ثابت ہے کہ معاشرے میں بے حیائی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔ خدا کے پراسرار بندوں کی جائز ضروریات مثلا پلاٹوں اور مرسڈیزوں کا ذکر سر عام غیر مردوں کے درمیان بے حیائی سے کیا جائے گا۔ اس پرمومنین اشکبار ہو جائیں گے، بے بسی سے شور مچائیں گےاور چیخیں مارکر کہیں گے کہ مسلمانوں کی ایک تہزیب ہوتی ہے ۔۔ ایک کلچر ہوتا ہے ۔ دنیا میں اللہ کا خوف رکھنے والی قوم صرف ایک ہی ہے اور وہ مسلمان ہے جو اپنی جذبہ ایمانی سے ہر دور میں سب کو اپنے سامنے جھکاتی آئی ہے ۔ لو دیکھو اس قوم کو جس کی محافظ قوت پراٹھنے والی ہر زبان کھینچ لی جاتی تھی، آج شرم و حیا کی وہ پیکر، مشرقی روایات کی پروردہ یہ دوشیزہ فورس اب دو ٹکے کے نام نہاد لبرل لکھاریوں کی عریاں اور فحش تحریروں کا موضوع بن گئی ہے۔

کُشتہ عشق الٰہی،قرب یزدانی کی شیفتہ، عارفہ، ولیہ حضرت شیرینہ ءِ مزاریہ رحمۃ اللہ علیھا سے لوگوں نے پوچھا ہمیں قیامت کی نشانیاں بتا دیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سالارِ غیب سے سنا ہے کہ بدعات کی کثرت قرب قیامت کا ایک شدید فتنہ ہیں۔ گمراہ سیکولر فلسفی اوربد عقیدہ لکھاری امت میں احتساب اور جوابدہی کی بدعت کی بنیاد ڈال دیں گے۔ امت یہود و نصاریٰ کا اتباع کرے گی اور اپنے زعما کے انتخاب میں حصہ داری پر بے جا اصرار کرے گی۔


مزید شرمناک فتنے

خواجہ ابو شاہد المسعود قلندری طبیب الحیوانات رحمتہ اللہ عیلہ ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے انہی کے بارے میں لکھا تھا: چھیتی پوڑیں وے طبیبا نئی تے گاں مر گئی اے۔ آپ ہفتے میں ایک بار درس لکھا کرتے تھے۔ جس دن سالارِ خفی سے خیالات کی آمد نہ ہوتی، راز کی باتیں بیان نہ فرماتے تھے۔ کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ خصوصی دعا کا ورد چیونٹی کو ہاتھی بنا دیتا ہے اوراس دعا سے لا علم چیونٹیاں ڈوب کر نہروں سے برآمد ہوتی ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ انہوں نے سالارِخفی سے سنا ہے کہ قربِ قیامت شرمگاہ کے فتنوں میں اضافہ ہو گا۔ بے ختنہ عمرو عیاروں کی کثرت ہو جائے گی جو آنگن ٹیڑھا ہونے کے باوجود مختن عساکر اسلام کوخٹک اور لڈی ہو جمالو ڈالنا سکھائیں گے۔ موت کے بعد ان بے ختنہ عمرو عیاروں کے لاشے جگہ جگہ سے ملیں گے اور قرب قیامت کی یاد دلائیں گے۔


قصہ دجال کا

شیخ الحدیث مولانا لال ٹوپی سرکار اپنی تصنیف ‘کتاب الفتن السیکولریہ والجمہوریہ’ میں فرماتے ہیں کہ انہیں ہے حکم اذاں۔ فرماتے ہیں کہ ابھی مومنین کفار سے نبرد آزما ہوں گے کہ اس آفت سے بھی بڑی آفت کی خبر سنیں گے ۔ چنانچہ ایک زوردار آواز آئے گی کہ دجال ظاہر ہو گیا ہے۔ یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے پاس ہو گا چھوڑ چھاڑ کر واپس بھاگیں گے اور خلیفہ ءِ موعود کی تلاش شروع کریں گے۔ دجال کی تفصیل بعض روایات کے مطابق ہے کہ وہ پہلے ایمان لائے گا لیکن پھرمرتد ہو جائے گا۔اپنی شروعات میں دجال کی نگاہِ شوق کے بال و پر شکستہ ہوں گے۔ بعد از تکفیر انگارہ ءِ خاکی میں یقیں پیدا ہو گا تو روح الامیں بال و پر عطا کر دے گا۔ بعد از تکفیر ڈکٹیشن سے انکاری ہو گا اور بال و پر سے مسلح ہو کر اپنے تکبر میں مومنین اورخدا کے پراسرار بندوں کو اذیت ناک دھمکیاں دے گا۔ مومنین اس کو دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور اس کے خلاف خلیفہءِ موعود کی اعانت کریں گے۔


قصہ خلیفہ ءِ موعود کا

خلیفہ ءِ موعود کا حلیہ ابوالمامون الچاچا کپی اور حکیم العلت مولانا کاشف العباسی نے بیان کیا ہے اگرچہ متضاد روایات بھی موجود ہیں۔ مولانا ابوالمامون لکھتے ہیں کہ صاحب الزمان خلیفہ ءِ موعود ایک عمر رسیدہ نوجوان ہوں گے۔ بالوں میں خضاب لگائیں گے اور چہرے سے معصومیت اور بچپنا ٹپک رہا ہو گا نیز ہاتھ میں چوبی، یعنی لکڑی کا گرز ہو گا جس سے مرتدین و ملحدین کو دہشت زدہ کر دیں گے۔ نیز لکھتے ہیں کہ امور خلافت مردِ مومن کی معاونت سے صرف ایک رات میں طے ہو جائیں گے۔

خلیفہ ءِ موعود کے ظہور سے پہلے جنگوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہو گا۔ ہر طرف قتل و غارت ہو گی اور مومنین پر آسمان سے ڈراونی آگ برس رہی ہو گی۔ امت ،یعنی کہ اپنی امہ، ہر جگہ حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں اور دریدہ دہانیوں کی وجہ سے سخت اظطراب اور بے چینی کا شکار ہو گی اور ہر گھڑی کسی نجات دہندہ کی آمد کی منتظر ہو گی۔ غالب امکان ہے کہ اس وقت خطہ ءِ غیر میں شریعت کا نظام قائم ہو چکا ہو گا۔ غازی یہ تیرے پراسرار بندے دجال کے خلاف خلیفہ کی اعانت کریں گے اور علما کو یقین دلائیں گے کہ وہ جوق در جوق حاظر ہو کر خلیفہ موصوف کی بیعت کریں۔


جہاں بھی جاو گے مومن ڈھونڈ لیں گے

قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علما کی اموات کثرت سے ہوں گی۔ چند علما بچ نکلیں گے اور مسلمانوں کی رہنمائی سے کترائیں گے۔ ان بے راہ رو علما کو کم عمر عزرائیلوں کے ہاتھوں بعد نماز جمعہ مساجد میں پیغام پہنچایا جائے گا تا کہ وہ مومنین کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔


قصہ ایک بڑھیا کا

ابوجھوٹا الاوریا المقبول انجان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابوالانصار العباسی الخارجی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابن الوقت الکلاسرہ نے بیان کیا، ان سے عبدالفوج النزیر الناجی ابن کزاب نے اور ان سے ابوالمامون الچاچا کپی نے بیان کیا کہ حضور والا، گزارش یہ ہے کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک مسلمانوں کے دل سے خدا کے پراسرار بندوں کا خوف نہ اٹھ جائے گا ۔ یا للعجب، چار درویش مل کر قبرستانوں میں سر جھکائے بیٹھے رہیں گے اورکبھی کبھی سر اٹھا کرعالمِ غیب کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے۔ بیرونی ہاتھوں کی کثرت ہو جائے گی اورادارے پر آفتیں جلدی جلدی آئیں گی ۔ ایامِ قیامت کے قریب خدا کے پراسرار بندوں کے پاس دولت ومال کی کثرت دیکھ کر منافقین جل اٹھیں گے اور ایک ‘چڑچڑی بڑھیا‘ امت میں نمودار ہو گی جس کی زبان کھل جائے گی اور کچھ ناچیز کپی یافتہ مومنین کے دل کوجلن دے گی ۔ مزید فرمایا کہچڑچڑوں کی جماعت سے یہاں مراد بھاڑے کے قلمی اور سیاسی ٹٹو ہیں جو باریش اور کالے رنگ کے شدید بوسیدہ بزرگوں سے کپی چھین لینے کی دھمکی دیں گے۔ مزید فرمایا کہ ان سب فتنوں کا مقابلہ کرنے والے مرد مومن کی پہچان ہے کہ اس کے پاس پیہم اور گہرا غور و فکر، ہر طرح کی بے رحمانہ تنقید پر صبر و تحمل اور کفار کے ناروا مطالبات کی حکمت و تحمل سے اطاعت کرنے کی طاقت ہو گی۔ خلیفہ ءِ موعود کو خوش آمدید یہی مرد مومن کریں گے۔

یاد رہے کہ ابوالمامون، جو کہ ایک نہایت قدیم بزرگ گزرے ہیں، خود سلسلہ عباسیہ کے ایک عظیم خلیفہ کے ہم نام تھے۔ اس روایت میں ان کا اشارہ خاندان غلاماں کے چودھویں حکمران الاشفاق حاکم بامرالامریکہ کی طرف ہے جو روایات کے مطابق امت میں موجود فتنوں کی پرورش کرنے کے لیے صبح آٹھ بجے سے شب دو بجے تک مزدوروں کی طرح ہمیشہ مشقت کرتے پائے جاتے تھے۔


قصہ ایک حاکم کا

خاندان غلاماں کے چودھویں حکمران الاشفاق حاکم بامرالامریکہ کے بارے میں مشہور روایات میں آیا ہے کہ ان جلیل القدر بزرگ اور حکمران کو طاقتِ ہوا پیمائی حاصل تھی۔ ان کے بہت سے معجزوں میں سے ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ ایک دن حالتِ جلال میں کفار سے شمشیر زنی کرتے ہوئے درویشوں کے ایک گروہ کی قیادت میں ہوا میں محو پراوز دیکھے گئے۔ پاوّں مبارک زمین سے چار انگلیوں کی چوڑائی کے برابر ہوا میں معلق تھے، پشت پر ہوائی اڑن کھٹولہ تھا اور شانہ بشانہ درویشانِ ہم پیالہ و ہم نوالہ ۔ اس معجزے کو دیکھ کربہت سے منافقین شادی مرگ کے ہاتھوں فرطِ تبسم سے جہنم واصل ہوئے اور مومنین کا ایمان مزید مضبوط ہوا۔ ابوالمامون الچاچا کپی ان کے بہت مرید تھے اور ان کے دیدار کو سات حج پر فوقیت دیتے تھے۔


قصہ ایک بھٹکے ہوئے ریاکار، دروغ گو جھوٹے کا

مولانا شیخ ابو العرفان الصدیقی قدس سرہ اپنی کتاب ‘اسرارالبندہ جات الخدا للادارہ الخفیہ’ میں اس روایت کوبیان فرماتے ہیں کہ قیامت کے قریب دھوکہ، ریاکاری اور ادارے کی توہین کثرت سے ہو گی۔ جھوٹ لکھنے والے کچھ فتنہ پرست امت کے محافظوں کے راز کفار کے سامنے افشا کر دیں گے۔ امت میں ایسے ریاکاروں کی پہچان ہے کہ ان کا ایمان کمزور ہو گا اور زیادہ دیر تشدد برداشت نہ کر سکیں گے، چناچہ وقت سے پہلے نہر واصل ہوں گے اور اپنی موت سے ماں جیسے ادارے کو بدنام کریں گے۔ ایسے ریاکاروں کے لیے حکم ہے کہ ان کی گمشدگی کی خبر کو دبا دو اور استغفار کرو ۔ جہاں تک استطاعت ہو، خدا کے پراسرار بندوں کی حمد و ثنا کرو۔ جو لوگ باوردی ہوئے اور جنہوں نے وردی میں امت کے ساتھ بدفعلی کی ان کے لیے اس دنیا میں بڑا اجر ہے اور موت کے بعد اولاد کے لیے پلازے اور شادی گھر ہیں۔ بے شک ادارے نے غازیوں کے لیے اس دنیا میں جنت کے باغات دیے ہیں جن کے آس پاس نہریں بہتی ہوں گي اور جہاں وہ ابد تک گالف کھیلیں گے

ختم شد

لہزا، اللہ کے بندو ! اس طاقت سے ڈرتے رہا کرو جس کے ہاتھ میں امت کی حکومت اور امور کی چابیاں ہیں ۔ اور اس بات کو بھی ھمیشہ یاد رکھو کہ تم کسی بھی وقت دربارِ مقتدرہ میں سالارِ خفیہ کے حضور جوابدہی کے لیے کھڑے کیے جا سکتے ھو جس دن کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائيں گی اور ان کی ٹکٹکی بندھ جائيگی، چہرے اور جسم پر اذیت کے نشان ہوں گے اور پھیپھڑوں میں پانی ہو گا ۔ یہ وہ دن ہے جس کے بارے میں چند مرتدین اور ملحدین بالخصوصمحمد حنیف اور نصرت جاوید، لعنتہ اللہ الاجمعین و تابعین، نے تفصیلا بیان کیا ہے۔ خدا تمام مسلمانوں کا خاتمہ ایمان بالافواج الغیب پر کرے اور اگر ایمان خطرے میں ہو تو اس سے پہلے مسلمان کا خاتمہ کر دے۔

اے خدائے بزرگ و برتر ہمیں ایمان کی کمزوری کے شر سے محفوظ رکھ اور قبل از مرگ تیرنا سکھا ۔

آمین ثم آمین۔

پس تحریر: صاحبان کرام۔ اگر آپ کی نظر سے قرب قیامت کی کچھ مزید علامات گزری ہیں تو برائے مہربانی درج کریں اور حلقہ احباب میں ان کی ترسیل کابندوبست کریں۔