Tuesday, 21 August 2018

راولپنڈی کی بینک روڈ



شاہد صدیقی

میں راولپنڈی کی بینک روڈ سے پہلے پہل اپنے کالج کے دنوں میں آشنا ہوا ۔ وہ بھی کیا دن تھے جب شام کے رنگوں کے ہمراہ ہم دوست بنک روڈ پر پہروں بے مقصدگھوماکرتے تھے۔بینک روڈ کی بہت سی عمارتیں ہمارے سامنے تعمیر ہوئیں اوربہت سی جگہیں دیکھتے ہی ہماری نگاہوں کے سامنے معدوم ہوگئیں۔اب سوچتا ہوں تو یوں لگتا ہے اگر صدر راولپنڈی کادل تھا توبینک روڈ اس دِل کی شاہ رگ تھی جہاں زندگی ہمارے دلوں کے ساتھ دھڑکتی تھی۔ نیشنل بینک کی وسیع وعریض عمارت کی وجہ سے یہ بینک روڈ کے نام سے جانی جاتی تھی اب تو بہت سے بینکوں کی برانچیں اس کے دائیں بائیں واقع ہیں۔راولپنڈی اور لالکرتی سے آتے ہوئے مال روڈ سے صدر کی طرف مڑتے ہوئے دائیںجانب پوسٹ آفس کی عمارت تھی ایک وسیع وعریض عمارت خان اینڈ سنزوائن شاپ تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ابھی وائن پرپابندی عائد نہیںہوئی تھی۔ اسی جگہ پرمشہور شالیمار ریستوران تھا جہاں شاعر اور ادیب جمع ہوتے تھے یہیں ایک بار اردو کے بے مثل نظم گوشاعر اخترحسین جعفری سے میری طویل ملاقات ہوئی تھی۔اُردو ادب میں اُن کے شعری مجموعے'' ـ آئینہ خانہ‘‘ کی خاص اہمیت ہے ۔

پوسٹ آفس کی عمارت کے بالکل سامنے شیزان ریستوران تھا یہ راولپنڈی کا بہت ہی خوبصورت ریستوران تھا جوکافی کے لیے مشہورتھا مجھے یادہے ایک بار ہم شیزان میںکافی پی رہے تھے معروف مرثیہ خواں مرحوم ناصرجہاں بھی شریکِ محفل تھے وہ جس محفل میں ہوتے اپنی دلچسپ گفتگو سے جانِ محفل بن جاتے قصہ گوئی کوئی اُن سے سیکھے۔ انگریزی شعرا کے حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی جب میٹا فزیکل شاعر Donne کا ذکر آیا تو کہنے لگے بھئی ہم Donne ) ڈن) کو ڈنی پڑھاکرتے تھے پھرخودہی قہقہہ لگایا اورکہنے لگے یہی فرق ہوتاہے پرائیویٹ اور ریگولر سٹوڈنٹ میں۔ اب نہ وہ شیزان کا شجر رہا اور نہ اس شجر پر بیٹھنے والے پرندے۔ شیزان سے آگے جائیں تودائیں طرف امریکن سینٹر کی وسیع و عریض عمارت تھی جہاں گرمیوں کی دوپہروں میں ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں کتابیں پڑھنے کی سہولت موجود تھی۔ امریکن سینٹر کے بالکل سامنے لنڈن بک کمپنی تھی۔ اب نہ شالیمار ریستوران رہا نہ شیزان کیفے‘ نہ امریکن سینٹر اور نہ ہی لنڈن بُک کمپنی۔ شیزان سے ذرا آگے آئیں تو بائیں طرف ایک نیاریستوران بن رہاتھا جس کانام برلاس تھا اس کی تکمیل پر یہ ہمارا مستقل ٹھکانہ بن گیا۔ سڑھیاں چڑھ کر اُوپروالی منزل پرجائیں تو گلاس وال سے باہرکامنظر‘ چلتے پھرتے لوگ‘ سڑکوں پر بھاگتی آتی جاتی گاڑیاں۔ سب کچھ صاف نظرآتاتھا۔ یہیں پہ اُردو کے صاحبِ طرزشاعرنثار ناسک نے ایک محفل میں اپنا خوبصورت شعر سنایاتھا۔؎
میں سازشوں میں گھرا اک یتیم شہزادہ
یہیں کہیں کوئی خنجر میری تلاش میں ہے

بعد میں اس کی شہرت اس کے تحریر کردہ گیت'' دِل دِل پاکستان‘‘ سے ہوئی جسے جنید جمشید کے وائٹل سائنز نے امر بنا دیا۔اب مجھے بھی راولپنڈی سے جدا ہوئے ایک عرصہ بیت گیا ہے۔ایک مدت ہوئی نثار ناسک سے ملاقات نہیں ہوئی کچھ عرصہ پہلے میرے گورڈن کالج کے دنوں کے دوست شکیل انجم (سیکرٹری پریس کلب )نے بتایا کہ نثار ناسک کی صحت اچھی نہیں رہتی خدااسے طویل عمر عطافرمائے۔

برلاس کے نیچے ایک گلی نمامارکیٹ تھی جس میں لیدر کی جیکٹس ملتی تھیں برلاس سے ذراآگے جائیں توہم بینک روڈ کوچھولیتے ہیں یہاں سے بائیں ہاتھ مڑیں تو کونے میں ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان تھی۔اس سے ذرا آگے ڈھاکہ بک سٹال تھا یہ دوبھائیوں کی ملکیت تھا یہاں دکان کے باہرایک لکڑی سے بنے سٹال پررسالے اوراخبار رکھے ہوتے تھے دونوں بھائی ادھیڑ عمرتھے اورآپس میں نوک جھونک کرتے رہتے دونوں بھائیوں کے بال برف کی طرح سفید تھے بڑے بھائی کاموسیقی سے خاص تعلق تھا کبھی کبھی وہ مجھے موسیقی پرلیکچردیتے اب نہ وہ ڈھاکہ بک سٹال رہا اور نہ ہی وہ دوبھائی۔

ڈھاکہ بک سٹال کے برابرمیں راولپنڈی میں سموسوں کی قدیم جگہ کریم ہوٹل تھا۔ اس کے سموسوں کی خاص بات اس کی (Shape) تھی اورحیرت انگیز طورپر یہDryہوتے ۔سموسوں کے ہمراہ گاڑھی برائون رنگ کی چٹنی اورلسی نمارائتہ ہوتا تھا۔ میں نے کئی بار دوستوں کے ہمراہ نیم تاریک کمرے میں ٹوٹی ہوئی کرسیوں پربیٹھ کر یہاں کے سموسے کھائے تھے۔سناہے اب بھی کریم ہوٹل اپنی جگہ قائم ہے مگر سموسوں کی شکل بدل گئی ہے۔ کریم ہوٹل کے پہلومیں ایک تنگ سی گلی تھی جہاں سے نکل کرہم داتا ریستوران پہنچ جاتے یہ ریستوران ابھی نیانیا بناتھا اوربہت جلد شاعروں اور ادیبوںکااڈہ بن گیا۔ مجھے یادہے ایک بار گرمیوں کی چلچلاتی دوپہرمیں معروف شاعراورکالم نگار اجمل نیازی سے سرِراہ ملاقات ہوگئی تھی نیازی صاحب کسی زمانے میں گورڈن کالج میں اُردو پڑھاتے تھے ہم چائے پینے کے لیے داتاریستوران میں آ بیٹھے یہیں چائے پیتے ہوئے انہوںنے اپناشعر سنایاکیا خوب صورت شعر تھا۔؎
منزلوں پر بھی پہنچ کر وہ ابھی تک منزلوں جیسا نہیں
اس کی آنکھوں میں نہیں ہیں راستوں کے منزلوں کی حیرتیں

اب ہم واپس بینک روڈ پرآجاتے ہیں کریم ہوٹل سے آگے جائیں تو بائیں طرف نیشنل بینک کی عمارت تھی اوراس سے متصل سیروز سینما۔ سیروز سینما انگلش فلموں کے لیے جاناجاتاتھا یہاں میں نے دوستوں کے ہمراہ کئی یادرگارفلمیں دیکھیں انہیں میں ایک فلم سمرآف42 (Summer of 42) تھی جو Herman Raucherکے ناول پرمبنی تھی اس کہانی کا تاثر میرے دل ودماغ میں ابھی تک تازہ ہے۔سینما کے بالکل سامنے چاٹ اوردہی بھلوں کی ریڑھی ہوتی تھی۔ سیروز سینما کے بالکل سامنے ایک ریستوران تھا جس کا نامVoguesتھا۔ سیروز سینماکے ساتھ سڑک کے اس پار اوڈین سینماتھا وہاں بھی انگریزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ یہیں پہ میں نے انگریزی کی ہارر فلم (Exorcist)دیکھی تھی بہت سالوں بعدجب مجھے امریکہ کی جارج ٹائون یونیورسٹی جانے کااتفاق ہوا تووہاں وہ جگہ دیکھی جہاں اس فلم کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ اوڈین سینما کے محل وقوع میں برٹش کونسل لائبریری تھی ایم اے انگلش کے دوران میں اکثریہاں آتاتھا ان دنوں لائبریری کے قریب ہیLansdown لائبریری تھی جہاں آتے جاتے معروف ادیب عزیزملک صاحب سے ملاقات ہوجایاکرتی۔ نیشنل بنک کے سامنے سڑک کے پار نظام واچ ہائوس گھڑیوں کی مشہور دکان تھی۔ بینک روڈ پرذرا آگے جائیں تو کتابوں کی دکان ورائٹی بک سٹال تھی۔ورائٹی بک سٹال کے بالکل سامنے ہمارے دیکھتے دیکھتے گگھڑ پلازہ بن گیا۔ بینک روڈ کے آخری سرے پر میٹروپولیٹین ہوٹل تھا۔

اب ہم بینک روڈ پرواپس مرکزی چوک پرآجاتے ہیں اورچوک کے دوسری طرف بینک روڈ پرچلتے ہیں بالکل کونے میں ہمارے سامنے ہی ایک نئی بیکری کھلی تھی جس کانام Unique Bakeryتھا۔یونیک بیکری کے ساتھ ہی کیسٹوں کی دکان تھی جہاں سے اکثر نئے اورپرانے گیتوں کے Cassettesدستیاب ہوتے تھے۔ ذرا اورآگے بڑھیں تو کامران ہوٹل تھا یہ بھی بیٹھنے کی اچھی جگہ تھی اس سے آگے سپر کیفے تھا جس کامالک' فارغ البال' تھا اورلڑکے بالے فون کرکے اسے تنگ کرتے تھے سپرکیفے اورچیزوں کے علاوہ اپنی ٹوٹی فروٹی آئس کریم کے لیے مشہورتھا۔اس کے سامنے ادریس بک کمپنی ہمارے سامنے شروع ہوئی ادریس کمپنی کے ساتھ کپڑوں کی کچھ دکانیں تھیں اوران دکانوں کے سامنے کون آئس کریم کاایک سٹال تھا۔عید کا چاند دیکھ کر ہم بینک روڈ کا رخ کرتے چاند رات کو تو بینک روڈ پر خوب بھیڑ ہوتی۔ مجھے اب راولپنڈی چھوڑے اور بینک روڈ گئے ایک مدت ہو گئی ہے۔ سنا ہے اب بھی وہاں گرمئی بازار کا وہی عالم ہے کبھی کبھی جی چاہتا ہے دنیا کے ہنگاموں سے ایک دِن چرا کر بینک روڈ جاؤں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پیدل چلتا ہوابیتے ہوے دنوں کو آواز دوں پھر منیر نیازی کا یہ شعر میرے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتاہے۔؎
واپس نہ جا وہاں کہ ترے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا...!!!

Monday, 19 September 2016

Deosai - The Land of the Giants

Deosai is the 2nd highest plateau in the World at over 13,000 ft above the sea level; the highest being the Qinghai-Tibet. Deosai can be reached via Astore as well as Skardu. I used the Skardu route, and drove all the way from Islamabad, a journey I need to write about a bit later. Here are some of the pictures I took there on 18 August 2016.

Do lemme know if you need to ask something !






























In Histories (Book 3, passages 102 to 105) Herodotus reports that a species of fox-sized, furry "ants" lives in one of the far eastern, Indian provinces of the Persian Empire. This region, he reports, is a sandy desert, and the sand there contains a wealth of fine gold dust. These giant ants, according to Herodotus, would often unearth the gold dust when digging their mounds and tunnels, and the people living in this province would then collect the precious dust.


The Gold Digging Ants



French ethnologist Michel Peissel claims that the Himalayan Marmot of the Deosai Plateau may have been what Herodotus called giant "ants". Much like the province that Herodotus describes, the ground of the Deosai Plateau is rich in gold dust. Peissel interviewed the Minaro tribal people who live in the Deosai Plateau, and they have confirmed that they have, for generations, collected the gold dust that the marmots bring to the surface when digging burrows. The story was widespread in the ancient world and later authors like Pliny the Elder mentioned it in his gold mining section of the Naturalis Historia.

In his book, The Ants' Gold: The Discovery of the Greek El Dorado in the Himalayas, Peissel conjectures that Herodotus may have confused the old Persian word for "marmot" with that for "mountain ant" because he probably did not know any Persian and thus relied on local translators when travelling in the Persian Empire. Herodotus did not claim to have seen the gold-digging "ant" creatures, he stated that he was simply reporting what other travelers told him.







Tuesday, 10 November 2015

Bhamala Stupa, the Ever Serene Monastery and a Volkswagen Camper

So we were sitting at Romano's place discussing the launching of Ali Akbar Khan's book, Rawul Pindee, The Raj Years, when Romano talked of the discovery of the largest Budhha Statue at the Bhamala Stupa. Both our ears cocked up, especially since I hadn't been to Bhamala in quite some time as the last plan to Bhamala with Hermes (the God of Traveling and Writing, i.e., Salman Rashid) was diverted to Pharwala.


Even though I wanted to show-off my discovery of the short-cut over the Margalla Hills, we decided to go via the Taxila-Khan Pur route, especially since Romano agreed to bring his VW Camper.  So setting off at 9 am on a lovely Sunday morning, we were at the Khan Pur Lake by 10:15 am. The Water in the turquoise lake was at the highest I had ever seen.


Just at the end of the Lake, there was the blue Department of Archaeology sign board with BHAMALA written on it (BTW the sign board has been badly mauled by some passing vehicle and needs a sharp eye to be spotted) and the narrow shingle road took off to the right. The ruined monastery is 6 km from the turn-off.

Fortunately the last 2 Kms have been cemented and drive is actually not that bad. The scenic route along the way is breath taking, I might add.

 So we decided to go slow, absorbing all the beauty as we went along, reaching Bhamala by 11 am, the site being named after the village it is next to. The village is actually pronounced as Pumbahlaa (پمبہالہ) which has been Urduized into Bhamala, or should I say Arabized.

A stone stairway leads you up to the flat site with the Stupa looking like an Aztec / Mayan Pyramid.

Situated on an elongated hill above the right bank of the Haro River where the valley is only a couple of hundred metres wide, Bhamala is as secluded as it can get. On three sides the hills loom high, only to the southwest is the view open where the narrow valley looks into what was once a large depression containing a few villages but now lies submerged under the placid blue waters of Khanpur Dam.
If it has a unique setting among the other Taxilan monasteries, Bhamala also has one distinctive feature of archaeological interest: its main stupa is built upon a cruciform base as opposed to the circular stupas in the other monasteries. Long before John Marshall struck the first spade to uncover its secrets in 1931, this stupa had already been dug into and somewhat damaged by treasure hunters. A reminder of that act of vandalism is the cleft running clear across the body of the structure.


The area immediately around the stupa base is paved with terra-cotta tiles which is another one of its unique features. Arrayed around the main stupa and just outside this paved area is a number of smaller votive stupas. 








 To the east, the monastery itself sits behind its high wall with a gate facing the main stupa. Like the other monasteries, the monks’ rooms run around the wall that forms the perimeter and look inward to the courtyard. The standard feature of the central water tank is missing here, perhaps because of the nearness to the Haro just below the hill.



Romano met these kids from a nearby village who had come to spend the day at Bhamala and was soon playing with them, while I managed a few snaps.

So then we proceeded to the find of the century here at Bhamala. In March 2015, a team of Archaeologists from the Hazara University found the largest known statue of the Budhha from the Gandhara civilization, at 14-meter (46 feet) long. It rests on a 15-meter (49 feet) platform, and portrays a scene known as Maha Pari Nirvana, said to be the moment Buddha’s consciousness left his body and he died.
Access to this chamber is given through three openings at regular intervals, while the chamber is made of stone in semi-ashlar masonry.

Now as you can see the head is missing and there is extensive damage to the statue in the middle; apparently the enthusiastic students of the Hazara University were a big too trigger-happy or perhaps it was the grave robbers. I heard from someone at the site that it was Professor Dr Mark Kenoyer, Professor of Anthropology at the University of Wisconsin, who pointed out that this was in fact a Maha Pari Nirvana statue. You can see the wrinkles of the clothes as they were carved in the rock.


They have dated the artifacts to the 3rd Century CE and believe it has Kashmiri influence, since the cruciform Stupas have not been seen elsewhere. Recently they have also discovered terracotta artifacts, stucco sculptures, architectural elements, copper coins, iron nails, door sittings, pottery and 14 coins from the Kushan era.

Anyhow, the only good thing I could see was the shed they had made over the priceless statue, which may keep it preserved for future generations.

The best part of coming to Bhamala is the serenity and the feeling of peace which this mound exudes. You can literally hear the Silence !

In the words of Salman Rashid, Bhamala fell in the early years of the 6th century CE to the savage Central Asiatic Huns under their leader Mehr Gul (Mihirakula). It is not for nothing that the epic Rajatarangini – Chronicles of Kings [of Kashmir] written 1160, tells us that this barbarian was a killer of ‘three crore’ people. He had, so we are told, no pity either for women or children or the elderly and that his progress across the country was marked by a dark cloud of crows and vultures keen to feed on the corpses the savages left behind.

One morning as the monks from Bhamala were preparing to set out on their alms-seeking trip to the streets of Taxila, they would have seen the dark cloud of birds and heard the din of the advancing army. Some may have stayed to try and defend what they and so many generations before them had held dear to their souls. Others would have fled into the hills. But not one who stayed lived to tell the tale of what transpired. When the smoke finally cleared, the monastery had been completely sacked. A silence descended upon its ruined walls and structures; a silence that was broken fifteen hundred years later when John Marshall's team struck the first spade to reveal the ashes left behind by the Huns.
We were pleasantly surprised to see a bus of College Girls from Haripur that had come all the way up to Bhamala for a field trip. As we talked to the girls, we saw hope in their eyes, though most were busy taking selfies.


So after spending a good couple of hours, absorbing the placid aura of the site, we decided to head back to the Camper, parked just below the Stupa mound at the Bhamala Village

The Village Bhamala

And on the way back, we were pleasantly accosted by these partridges on the road, taking a dust bath.


P.S. This blog was written at the express request of my friend, Krish

An added benefit of the trip was the incredible selfies galore :)